مرے مرشد کا شہزادہ
(منقبتِ عقیدت و محبت)
حسین گھر کا پروردہ مرے مرشد کا شہزادہ
مہکتا اک گلِ خندہ مرے مرشد کا شہزادہ
خطابت ہو، قیادت ہو، یا پھر علمی جلالت ہو
جدھر دیکھو اُدھر عمدہ مرے مرشد کا شہزادہ
رُخِ زیبا پہ نازاں ہو نہ کیوں دیوانۂ اشرف
چمکتا چاند کا ٹکڑا مرے مرشد کا شہزادہ
فقاہت میں بصیرت ہو، شریعت کی صلابت ہو
مکمل رہتا سنجیدہ مرے مرشد کا شہزادہ
تواضع میں سلاست ہو، اخوت کی علامت ہو
دلوں کو جو کرے زندہ مرے مرشد کا شہزادہ
خلافت کا اہل ہونا نسب معنی نہیں رکھتا
عمل سے، علم سے کہتا مرے مرشد کا شہزادہ
مٹا دے ظلمتیں ساری ادا اُن کی بشاشت کی
کرے پیشانی جب خندہ مرے مرشد کا شہزادہ
عطاؔ کی شاعری اشرف کی نسبت سے سنورتی ہے
رقم سب ہے عطا کردہ مرے مرشد کا شہزادہ
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، انڈیا

Post a Comment